حمیر پور، 8 ؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )پاکستانی فوجیوں کی گولہ باری کے بعد اپنے گھر، کھڑی فصل اور جانوروں کو چھوڑنے کے لیے مجبور ہونے والے حمیر پور کے سرحدی گاؤں کے باشندے اب بھی دونوں ممالک کے درمیان امن کی امید لگائے بیٹھے ہیں تاکہ وہ ایک دن اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔گاؤں میں داخل ہونے پر آپ کو بند دروازے اور خالی مکان دیکھنے کو ملیں گے، لیکن یہاں پر کسی بھی وقت ایک بم دھماکہ سے یہ امن تحلیل ہونے کو لے کر خوف پسرا ہوا ہے۔گاؤں چھوڑ کر جانے والوں نے 42سالہ ترسیم لال کو جانوروں کو چرانے کا کام دیا ہے۔انہوں نے بتایاکہ بات چیت شروع کرنے سے پہلے ہمیں اس دیوار کی آڑ لے لینی چاہیے ۔ہم نہیں جانتے کہ سرحد پار سے کب ایک بم کا گولہ یہاں آکر پھٹ جائے اور ہمیں زخمی کر دے یا ہماری جان لے لے۔یہ گاؤں کنٹرول لائن سے بالکل متصل ہے۔گاؤں والوں کے گاؤں چھوڑنے کی وجہ سے یہ ویران ہو گیا ہے کچھ لوگ جموں چلے گئے ہیں ،حالانکہ زیادہ تر لوگ انتظامیہ کی طرف سے بنائے گئے کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔پناہ گزین کیمپ میں رہنے والوں نے دو لوگوں کو جانوروں کو چارہ دینے کا کام سونپ رکھا ہے۔وہ ہر صبح اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر یہاں آتے ہیں۔لال کے ساتھی گاؤں کے باشندے کلبیر سنگھ(54)نے بتایا کہ لوگ امن چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔